مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گزشتہ برسوں کے دوران غزہ کی پٹی پر غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی اور وحشیانہ جرائم نے عرب و مسلم گروہوں، اداروں اور حکومتوں، نیز اقوام اور افراد کو ایک سخت اور تاریخی آزمائش سے دوچار کیا ہے۔ یہ آزمائش صرف مالی اور سیاسی حمایت کی حد تک نہیں، بلکہ ان جرائم کی مذمت میں انسانی یکجہتی اور ہمدردی کے معیار کو بھی شامل کرتی ہے۔
غزہ کے حوالے سے عرب حکومتوں کی بے اعتنائی اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف صیہونی حکومت کے انسانیت سوز جرائم کو نظر انداز کیے جانے کے باوجود بعض گروہوں نے غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت کی روشن مثالیں قائم کیں۔ ان میں سرفہرست خطے کا ’’محورِ مقاومت و استقامت‘‘ ہے، جو ہمیشہ دنیا بھر کے مظلوموں کے حقوق کا حامی اور پشتیبان رہا ہے۔
حزب اللہ لبنان کے شہید سربراہ سید حسن نصراللہ، محورِ مقاومت کے مرکز میں فلسطین کے مقصد اور مظلوم فلسطینی قوم کے سب سے بڑے حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ طوفان الاقصیٰ کے واقعے کے بعد بھی وہ پہلے کی طرح فلسطین کے معاملے میں پیش پیش رہے۔ وہ ہمیشہ فلسطینی مقاومت کے مشیر، حامی اور مؤید رہے اور یہاں تک آگے بڑھے کہ اس راہ میں تمام اخراجات برداشت کیے اور اس کے نتائج بھی قبول کیے۔
فلسطین کے حوالے سے شہید سید کا مؤقف اتفاقی نہیں تھا۔ فلسطین اور غزہ کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی کے باوجود انہوں نے یہ مؤقف محض جذبات کی بنیاد پر اختیار نہیں کیا۔ فلسطین اور غزہ کی حمایت میں شہید نصراللہ کا مؤقف ایسے اصولوں کی بنیاد پر تھا جن کی وہ ہمیشہ دوسروں کو بھی دعوت دیتے تھے۔ ان کے اصول اخلاقی بنیاد رکھتے تھے، تاہم ساتھ ہی سیاسی راستوں، قومی مفادات اور سب سے بڑھ کر خطے اور دنیا میں مقاومت کے منصوبے کی خدمت سے بھی جڑے ہوئے تھے۔ اس لیے انسانیت کی رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر مدد اور ظلم کو مسترد کرنے اور اس کے خلاف مزاحمت کے مقصد سے یہ طرزِ عمل اختیار کیا گیا تھا۔
غزہ کی حمایت میں شہید نصرالله کا انسانی جذبہ
شہید سید حسن نصرالله کے فلسطین اور غزہ کے حوالے سے مؤقف کی تشکیل میں سب سے اہم محرکات میں انسانی جذبہ شامل تھا۔ اگرچہ یہ جذبہ ان کے پیشِ نظر دیگر معاملات تک بھی پھیلا ہوا تھا، تاہم فلسطینی قوم کے حوالے سے، بالخصوص 2023 کے اواخر میں شروع ہونے والی ظالمانہ جارحیت کے بعد، یہ زیادہ نمایاں ہوگیا۔
یہ بات ان کی متعدد تقاریر میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے فلسطینی قوم کے خلاف قتل عام، جبری بے دخلی، محاصرہ اور دیگر جارحانہ اقدامات پوری انسانیت کے خلاف ہیں۔ یہ اقدامات ان بنیادی اخلاقی اصولوں کے منافی ہیں جن پر تمام آسمانی مذاہب نے زور دیا ہے اور انسانی حقوق کے احترام سے متعلق تمام بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور اقوامِ متحدہ کے اصولوں سے متصادم ہیں، جو مذہب، قومیت، رنگ یا نسل سے قطع نظر انسانی حقوق کے احترام پر زور دیتے ہیں۔
ان کا خیال تھا کہ فلسطینی قوم کو ظلم، قتل عام اور جرائم کے مقابلے میں مدد فراہم کرنا ایک ’’انسانی ذمہ داری‘‘ ہے، جس کا انحصار اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کے پاس تبدیلی لانے کے لیے کتنے وسائل یا صلاحیت موجود ہے، بلکہ یہ ایک لازمی انتخاب ہے جو مدد کرنے والے سے اخلاقی ذمہ داری پوری کرنے کا تقاضا کرتا ہے؛ ایسی ذمہ داری جسے نتائج کی پروا کیے بغیر سب کو قبول کرنا چاہیے۔
غزہ کی حمایت میں شہید نصرالله کے مؤقف پر مذہب کا گہرا اثر
شہید سید کے فلسطین اور غزہ کے حوالے سے مؤقف کی تشکیل میں ایک اور محرک ’’مذہبی جذبہ‘‘ تھا۔ یہ ایک اہم اور بنیادی محرک تھا جس کا اثر اور افادیت دیگر محرکات سے زیادہ تھی۔ مذہبی جذبے کو دنیا بھر کے مظلوموں کے مسائل کے حوالے سے یکجہتی اور ردعمل کا بنیادی محرک قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسلامی دنیا کی ایک بلند مرتبہ مذہبی شخصیت کی حیثیت سے سید حسن نصراللہ فلسطین اور غزہ کی مدد کو دینی تعلیمات سے وابستگی کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ دین انسانوں کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور مظلوموں کی مدد کی دعوت دیتا ہے، خواہ اس کے لیے جان و مال کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔
غزہ کی حمایت میں حزب الله کے سیاسی محرکات
’’سیاسی محرک‘‘ بھی فلسطین کے حوالے سے شہید سید کے مؤقف کی تشکیل میں اہم کردار رکھتا تھا۔ وہ فلسطینی قوم کے سیاسی حقوق کی تحقیر، ان کی سرزمین پر قبضے اور بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو اس قوم سے عزت اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چھیننے کے مترادف سمجھتے تھے، جو دنیا کی دیگر اقوام کی طرح ان کا حق ہے۔
ان کا ماننا تھا کہ غاصب صیہونی دشمن کی جانب سے کی جانے والی تمام جارحیتیں بین الاقوامی منشوروں میں تسلیم شدہ حقوق کی خلاف ورزی ہیں؛ ایسے حقوق جو دنیا کی تمام اقوام کو بیرونی مداخلت اور مسلط کردہ فیصلوں سے آزاد ہوکر اپنے مستقبل اور حکومتی نظام کا تعین کرنے کا حق دیتے ہیں۔
اسی تناظر میں سیدِ مقاومت ہمیشہ فلسطینی قوم کے مکمل اور کسی کمی و کاستی کے بغیر سیاسی حقوق کے حصول کے خواہاں رہے اور اقوامِ متحدہ کے تمام اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں میں ہر ممکن ذریعے سے اس حق کی حمایت پر زور دیتے رہے۔
شہید سید حسن نصرالله کی فلسطینی کاز اور غزہ کے عوام سے یکجہتی اور وابستگی صرف نعروں اور تقاریر تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں مختلف نوعیت کی سیاسی، فوجی اور لاجسٹک حمایت بھی شامل تھی۔ یہ حمایت ان کی جوانی سے شروع ہوئی، حزب اللہ کی قیادت کے دوران جاری رہی اور بالآخر اسی راہ میں ان کی جان کی قربانی پر اپنے عروج کو پہنچی۔
لیکن مقاومت کا راستہ، مقاومت کے شہیدوں کے سردار شہید سید حسن نصرالله اور ان کے دیرینہ ساتھی شہید سید ہاشم صفی الدین کی دوسری برسی کے موقع پر پہلے سے زیادہ واضح انداز میں جاری ہے۔ موجودہ مشکلات اور چیلنجز کے باوجود نصرت اور کامیابی کی صبح قریب ہے۔ اس میدان میں کامیابی، جس کے لیے بہت سے خون اور جانیں قربان کی گئی ہیں اور عظیم قربانیاں دی گئی ہیں، نزدیک ہے، خواہ دنیا کی تمام شرپسند اور مجرم قوتیں مخالف محاذ پر متحد ہی کیوں نہ ہوجائیں۔
آپ کا تبصرہ